کاروار 13/ فروری (ایس او نیوز) حجاب پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ کے مشہور سینئر ایڈوکیٹ دیو دت کامت نے جس موثر انداز میں ہائی کورٹ میں اپنی بات رکھی اور پھر ہائی کورٹ سے عبوری راحت نہ ملنے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے میں جو سرعت اور مستعدی دکھائی اس نے انصاف اور امن پسند شہریوں کا دل جیت لیا ۔ لیکن شرپسند ذہنیت والا طبقہ دیو دت کامت کی پیشہ ورانہ چابکدستی سے مسلمانوں کو فائدہ ہوتے دیکھ کر تلملا اٹھا اور ان کے خلاف سخت تنقید کا محاذ کھول دیا گیا یہاں تک کہ انہیں ہندو مخالف قرار دیا جانے لگا ہے ۔ اس موڑ پر کاروار کے شری رام کرشنا آشرم کے مہنت سوامی بھاویشا نند ایڈوکیٹ دیو دت کامت کی حمایت اور مدافعت میں سامنے آ گئے ہیں ۔ انہوں نے میڈیا کو جاری کیے گئے بیان میں دیو دت کامت کے موقف کی بھرپور مدافعت کرتے ہوئے کہا ہے : " اسکولوں / کالجوں میں مسلم لڑکیوں کے ڈریس کوڈ سے متعلق ایک غیر ضروری مباحثہ چھیڑا گیا ہے ۔ سماج کی مختلف سطحوں پر اس تنازعہ کو بڑھتے ہوئے دیکھ کر مجھے دکھ ہورہا ہے ۔ بے شک یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے اور کسی بھی طرح سماج کے امن اور ہم آہنگی کے مفاد میں نہیں ہے ۔" انہوں نے مزید کہا ہے کہ :" مجھے اور بھی زیادہ دکھ اس بات پر ہورہا ہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ دیو دت کامت کا نام محض اس لئے اس تنازع میں گھسیٹا جارہا ہے، کیونکہ انہوں نے ایک وکیل کی حیثیت سے اس میں سے ایک فریق کی پیروی کی ہے ۔ کچھ عناصر ان کو ہندو مذہبی مفاد کے مخالفین کی حمایت کرنے والی شخصیت کے طور پر پیش کر رہے ہیں ۔ اس طرح کی سوچ بالکل نامناسب اور بے بنیاد ہے ۔ ایک وکیل کو اپنے موکل کے لئے عدالت میں پیروی کرتے وقت اپنی ذمہ داری نبھانی ہوتی ہے اور اپنے موکل کو انصاف دلانا ہوتا ہے ۔ یہ اس کا پیشہ ورانہ فرض اور ذمہ داری ہے ۔ اسے ہندو مذہب مخالف ہونے کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔" سوامی بھاویشا نند نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ دیو دت کامت شری رام کرشنا ویویکانند فلسفہ پر دل سے عمل کرنے والے اور اپنے بچپن سے ہی شری رام کرشنا آشرم کے انتہائی سرگرم عقیدت مند ہیں ۔ وہ ایک مذہبی سوچ رکھنے والے اور مذہبی پس منظر سے ابھرنے والی شخصیت ہیں ۔ شمالی کینرا کے عوام ضلع کے لئے ان کی حمایت اور خدمات کی وجہ سے انہیں بڑی عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ مختلف انجمنوں میں انہوں نے بہت سے مذہبی اور خیراتی اداروں کی نمائندگی کی ہے ۔ انہوں نے بہت سے ہندو دھرم گرووں اور دھرم پیٹھا کے مفادات کا خوش اسلوبی سے تحفظ کیا ہے ۔ ایک وکیل کی حیثیت سے ان کے کردار کو الگ تناظر میں دیکھنا چاہیے اور اس کی سراہنا کی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ دیو دت کامت کی ذاتیات پر کسی بھی قسم کا منفی تبصرہ یا ریمارک حقیقی طور پر قابل مذمت ہے ۔ "میں عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ چند بے اصول اور بے لگام عناصر کی طرف سے جو بے بنیاد اور غیر منصفانہ پروپگینڈا کیا جا رہا ہے اس طرح کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے ۔"